Tuesday, November 3, 2009

I Can Take My Country Out of Turmoil

What do you think, is the mostly uttered word in Muslim world, especially in Pakistan? Is it Allah or Muhammad? No, it's none of these. The most widely spoken word is America (or United States of America).

Why do we assume ourselves inferior? Why do we under estimate ourselves? We are always looking towards U.S.A. People always say U.S is doing wrong, U.S should do this, U.S must not do that, U.S is destroying us, U.S government didn't take us into confidence, etc. What the heck is this? Come one guys, let's grow up!

Why do we give others the opportunity to interfere in our matters and decide our fate? If we ourselves are strong, no country or group will have the courage to dictate us. No one will be able to decide what we should do. U.S.A will not be able to give us directions if we stand on our feet. Come on people, let's stop looking at others and do work for our country, for our people, for ourselves!

You might say that America is a cruel country and she's persecuting innocents. My dear, if the innocent is standing on his feet, has courage and strength, then who will be able to thrash him? If you say that America or some other countries didn't let you have strength, then I will just smile. :)

If your weight is 40Kg, your arms and legs are weak; you will be a very easy target of everyone. People will scold you, torture you and make you their slave. But if you are strong, you know martial arts, you have up-to-date weapons, you have enough wealth and you have the courage in your mind and strength in your body, then no one can even think about raising finger on you!

I believe that "God has created antidote for everything"; this is my philosophy. Newton didn't create his thrid law, he just discovered it, "To every action there is an equal and opposite reaction." There is cure of every disease in this world, there is solution to every problem, we just have to find it! God sent us bare-handed in this world, but he gave us unlimited opportunities and resources to help us fill our hands with anything and everything we like.

If I stop doing corruption, if I have courage, if I do hard work, if I get knowledge and hence strength, then I will make myself a good human being. Then I will help my family, my friends and my fellows to improve themselves and make them good humans. This is a chain process, once it starts it will never end. Eventually we will build a very strong community, society and a developed progressive country. This is my dream, this is your dream, this is our dream. Come on people let's do it. The only way to make a dream come true is Wake Up!!

مسلمان اور بالخصوص پاکستانی کون سا لفظ سب سے زیادہ بولتے ہیں؟ اللہ یا محمد؟ جی نہیں ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ لوگوں کی زبان ہر وقت ایک ہی وِرد کرتی ہے، امریکہ امریکہ امریکہ۔۔

ہم احساسِ کمتری کا شکار کیوں ہیں؟ ہماری نظریں ہر وقت امریکہ کی جانب کیوں اُٹھی رہتی ہیں؟ ہم یہ کیوں کہتے رہتے ہیں کہ امریکہ کو یہ کرنا چاہیے، یہ نہیں کرنا چاہیے، امریکہ ہمیں تباہ کر رہا ہے، امریکی حکومت نے ہمیں اعتماد میں لیے بغیر یہ فیصلہ کر لیا۔ یہ سب کیا ہے۔ ہم بڑے کب ہوں گے؟

ہم دوسروں کو یہ موقع کیوں دیتے ہیں کہ وہ ہمارے معاملات میں دخل اندازی کریں اور ہماری قسمت کا فیصلہ کریں؟ اگر ہم خود مضبوط ہوں تو کسی ملک یا گروہ میں ہمارا لیڈر بننے کی جرات نہیں ہوگی، کوئی اس قابل نہیں ہوگا کہ ہمیں بتائے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ امریکہ ہمارے معاملات میں دخل اندازی کرنے کے قابل نہیں ہوگا اگر ہم خود اپنے پاوں پر کھڑے ہوں۔ آئیے ہم دوسروں سے امیدیں لگانا ختم کریں اور اپنے ملک، اپنے لوگوں اور اپنے لیے محنت اور لگن سے کام کریں۔

آپ کہیں گے کہ امریکہ ایک ظالم ملک ہے جس کا کام ہی کمزوروں پر ظلم کرنا ہے۔ میرے عزیز: اگر "کمزور" اپنے پاوں پر کھڑا ہو، اس میں ہمت اور طاقت ہو تو کون اُس پر ظلم کر سکے گا؟ اگر آپ کہیں کہ امریکہ یا کسی اور ملک نے آپ کو طاقتور نہیں بننے دیا، تو اس بات پر صرف مسکرایا ہی جا سکتا ہے۔

اگر آپ کا وزن چالیس کلوگرام ہو اور آپ کی ٹانگیں اور بازو بے جان ہوں تو آپ ہر ایک کے نشانے پر ہوں گے۔ لوگ آپ کو دھتکاریں گے، آپ کو ماریں گے اور آپ کو اپنا غلام بنا کر رکھیں گے۔ لیکن اگر آپ مضبوط ہوں، آپ کو مارشل آرٹس آتا  ہو، آپ کے پاس جدید ہتھیار ہوں، کافی دولت ہو، آپ کے دل میں حوصلہ اور جسم میں طاقت ہو تو کوئی آپ پر انگلی بھی نہیں اٹھا سکے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ "اللہ نے ہر شے کی مخالف شے تخلیق کی ہے"۔ بدی ہے تو نیکی ہے، خباثت ہے تو شرافت بھی ہے، مشکل ہے تو اس کا حل بھی اللہ نے بنایا ہے۔ اللہ نے اس دنیا میں ہمیں خالی ہاتھ بھیجا، لیکن اس نے ہمیں لاتعداد صلاحیتیں اور ذرائع بھی فراہم کیے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ اہم کس طرح ان صلاحیتوں کے ذریعے وسائل کو استعمال کریں اور اپنے آپ کو طاقتور اور بہتر انسان بنائیں۔ اللہ اس کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد کرنا چاہے۔ وہ آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا چاہے آپ کتنے ہی گناہگار کیوں نہ ہوں، بس آپ اس سے مانگیں اور خود بھی کوشش کریں، پھر دیکھیں اللہ آپ کو اتنا کچھ دے گا کہ آپ اپنی ساری کلفتیں بھول جائیں گے۔

اگر میں کرپشن چھوڑ دوں، جھوٹ اور دیگر برائیوں سے دور رہوں، ہمت کروں، محنت کروں، علم حاصل کر کے مضبوط بنوں، تو آخر کار میں ایک اچھا انسان بن جاوں گا۔ پھر میں اپنے خاندان، اپنے دوستوں اور اپنے قریب رہنے والوں کی رہنمائی کروں گا کہ وہ کیسے بہتر انسان بنیں۔ پھر میرے رشتہ دار دوست اور پڑوسی بھی میری طرح اچھے اور ایمان دار بن جائیں گے۔ وہ دوسرے لوگوں کو بہتر بنائیں گے۔ یہ سلسلہ چلتا جائے گا اور ہمارا معاشرہ ایک بہترین معاشرہ بنتا جائے گا۔ اس طرح ہمارا ملک ایک خودمختار اور ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔

یہ میرا خواب ہے، یہ آپ کا خواب ہے، یہ ہم سب کا خواب ہے۔ آ ئیے اس خواب کو شرمندہِ تعبیر کریں۔ آئیے اس خواب کو حقیقت بنائیں۔ کسی بھی خواب کو حقیقت بنانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے بیداری۔ جاگو!!

Friday, January 16, 2009

اپنے بچوں کو تباہ مت کیجیے

انسان کے لیے سب سے بڑی عدالت وہ خود ہوتا ہے ، اُس کا ضمیر ہوتا ہے ، اُس کا نفس ۔ یہ ناممکن ہے کہ دماغی طور پر نارمل شخص اپنی عدالت میں پیش نہ ہوتا ہو ۔ کبھی کبھی انسان کا اپنا وجود اُس کا سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے ، کبھی انسان اپنی ہی نظروں میں گِر جاتا ہے ۔ ہر اِنسان جانتا ہے کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ حقیقت پہ پردہ ڈال کر کسی اور سمت میں نکل جائے ۔

ہم جب بچپن سے لڑکپن میں داخل ہوئے تو زندگی سے شناسائی ہونے لگی ۔ چند ہی برسوں میں ہمیں دنیا upside down دکھائی دینے لگی ۔ جیسی ہم بچپن سے ، بارہ چودہ سالوں سے دیکھتے اور محسوس کرتے آ رہے تھے ، اس سے بالکل مختلف ۔ لوگوں کے چہرے بدل گئے ، اُن کے رویے ، اُن کے انداز بدل گئے ، یا شاید وہ ویسے ہی تھے ، شاید ہم بدل گئے تھے ۔ تب ہمیں زندگی کا ، اِس دنیا کا اِدراک ہونے لگا ۔ ایک لمحہ ایسا بھی آیا کہ جب ہمیں ایک زبردست جھٹکا لگا اور ہماری آنکھیں پوری طرح کھل گئیں ۔

ہم نے دیکھا کہ ہم جس معاشرے میں دو عشروں سے رہتے آرہے تھے ، وہ غلاظت میں لتھڑا ہوا تھا ۔ یہ غلاظت اخلاقی بھی تھی اور طبعی بھی ۔ بیشتر لوگ اندر سے بھی گندے اور باہر سے بھی گندے ۔ دِلوں میں تلخی اور گلیوں میں گندگی ۔ جابجا کوڑا کرکٹ بکھرا ہوا اور لوگ اس کے بیچ میں سے ، اس کے اوپر سے یوں گزر رہے ہیں جیسے نیچے گند نہیں بلکہ سُرخ قالین بچھا ہو ۔ گٹروں کا پانی گلیوں اور سڑکوں پہ یوں موجود ہے جیسے عمارات بنی ہی اس گند میں ہیں ، اٹلی کے شہر وینس کی طرح ۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ، کوئی پارک ، باغ درست حالت میں نہیں ہے ۔ رشوت ، سفارش ، گالی گلوچ ، ہر طرح کی برائی ہم میں موجود ہے اور ہم اسی میں جیے جا رہے ہیں ۔

اِس صورتِ حال نے ہمیں یہ سوچنے پہ مجبور کیا کہ آخر لوگوں کو اس کا اِدراک کیوں نہیں ہے ؟ وہ کیوں اس گندگی کو ختم نہیں کرتے ۔ اس کا جواب ہمیں یہ ملا کہ لوگ خود ہی ٹھیک نہیں ہونا چاہتے ۔ اگر کوئی سفارش ختم کر دے گا تو وہ اپنے مفادات کہاں سے حاصل کرے گا ؟ اگر کوئی رشوت دینا بند کر دے گا تو وہ خود رشوت کیسے لے گا ؟ اگر کوئی اپنی گلی کو صاف رکھنے لگے گا تو اس پر وقت اور سرمایہ خرچ ہوگا ۔ ہر شخص اپنا بوجھ دوسرے پر منتقل کرنا چاہتا ہے ۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی جنبشِ انگشت سے سب ٹھیک ہو جائے ، پر اسے کچھ نہ کرنا پڑے ۔

ہم یہ سوچ سوچ کر حیران و پریشان ہوتے ہیں کہ جن والدین کو اپنی اولاد کے کھانے پینے ، خوش رہنے ، تعلیم حاصل کرنے ، بڑے عہدوں پر فائز ہونے کی بہت زیادہ فکر ہے ، انہیں یہ فکر کیوں نہیں ہے کہ اُن کی اولاد ایک اچھے ماحول میں رہے ؟ جو نوجوان آج غلط حرکتوں میں مشغول ہے ، اُسے یہ فکر کیوں نہیں ہے کہ کل کو اس کی اولاد کے ساتھ کوئی اور یہ سب کرے گا ؟ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو پیار کرنے والا شخص یہ کوشش کیوں نہیں کرتا کہ جب اس کے بچے بڑے ہوں تو وہ ایک صاف ستھرے شہر میں رہیں ۔ ان کی گلیاں صاف ہوں ، سڑکیں ہموار اور کشادہ ہوں ، ان کی تفریح کے لیے سرسبز پارک ہوں ، انہیں اچھی آب و ہوا ملے ، جب وہ کسی دفتر میں کسی کام سے جائیں تو ان کے ساتھ ناانصافی نہ ہو ۔

جو قوم اپنے مستقبل کی فکر نہیں کرتی ، وہ تباہ و برباد ہو جاتی ہے ۔ بھارت نے آج سے تیس سال قبل یہ جان لیا تھا کہ ترقی کے لیے تعلیم ضروری ہے ۔ بھارتیوں نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دی ، اپنا نظامِ تعلیم بہتر کیا ، بین الاقوامی تعلیمی اداروں سے روابط قائم کیے ۔ آج دیکھ لیجیے کہ بھارت دنیا کا تیز رفتار ترین ترقی کرنے والا ملک بن گیا ہے ، چاند پر پہنچ چکا ہے ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں کتنا آگے چلا گیا ہے ۔ آؤٹ سورسنگ کا گڑھ بن چکا ہے ۔ کون سا بین الاقوامی ادارہ ہے جو بھارت میں کام نہیں کر رہا ؟ یہ سب ان کی دوراندیشی کے سبب ممکن ہوا ہے ، تعلیم نے انہیں یہ سب دیا ہے ۔ جبکہ ہمیں دیکھیے ، ہمیں آج دنیا میں سر چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی ، جہاں جاتے ہیں دہشت گرد قرار پا کر قید کر دیے جاتے ہیں یا ڈی پورٹ ۔

ہم پاکستانی مرد اپنی “مردانگی” کے لیے بہت حساس ہیں ۔ اپنی مردانگی ثابت کرنے کے لیے بڑے سے بڑا چیلنج قبول کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں ۔ لیکن جب اپنے ملک کو ٹھیک کرنے کی بات آتی ہے تو ایک نکڑ میں سمٹ جاتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ یہ نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا ۔ جناب ملک افراد سے بنتا ہے ، اگر افراد خراب ہوں گے تو ملک بھی خراب ہوگا ، اگر وہ ٹھیک ہوں گے تو ملک بھی ٹھیک ہوگا ۔ ہم ہی ہیں جو اِس ملک کو ، اس نظام کو ٹھیک کر سکتے ہیں ۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اپنے آپ کو ٹھیک کر لیں ۔ اگر آپ اپنے لیے کچھ نہیں کرنا چاہتے تو اپنے بچوں کا ہی خیال کر لیجیے ۔!

Thursday, January 15, 2009

بلیک میلنگ سے بچیے

وہ ایک شریف لڑکی تھی ؛ شریف ماں باپ کی شریف اولاد ۔ مذہب سے لگاؤ رکھنے والی ، معصومیت سے بھرپور ، دنیا کی تلخیوں سے نا آشنا ۔ دھوکہ دہی اور منافقت کی برائیوں سے دور ۔ پھر اسے وہ مل گیا ، دوستانہ رویہ ، ہنس مکھ اور محبت کرنے والا لڑکا ۔ اُن کی ملاقاتیں ہونے لگیں ۔ کبھی یونیورسٹی میں ، کبھی پارک میں ، کبھی سہیلی کے گھر ۔ ایک دِن وہ اسے اپنے دوست کے گھر لے گیا اور وہاں وہ سب ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ لڑکی وہ سب نہ کرنے دیتی لیکن اس نے اسے کہا کہ چند ہی دِن میں ہم نکاح کر لیں گے ۔ وہ اس کے جھانسے اور جذبات کی رَو میں بہہ گئی ۔

کچھ دِن بعد وہ اسے ملا اور اسے اپنے دوست کے گھر آنے کا کہا ۔ پچھلے واقعہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس نے جانے سے انکار کر دیا ۔ اس پر وہ تلخ ہو گیا اور اسے کہنے لگا کہ اُس روز میرے دوست نے تمہاری ویڈیو بنا لی تھی ، اگر تم نہ آئی تو یہ ویڈیو تمہارے پورے خاندان اور شہر میں تقسیم کر دوں گا ۔ لڑکی ڈر گئی اور اُس کے پاس چلی گئی ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور وہ اس کی داشتہ بن کر رہ گئی ۔

یہ کہانی ہے ایک پاکستانی لڑکی کی ، اور اس جیسی کئی معصوم لڑکیوں کی جو درندوں کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔ اکثر یہ کہانی محبت کے دعووں سے شروع ہوتی ہے اور بلیک میلنگ پر ختم ہوتی ہے ۔ بلیک میلنگ کسی بھی طرح کی ہو ، نہایت گھناؤنی شے ہے ۔ انسان کو کبھی بلیک میل نہیں ہونا چاہیے ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کہنا آسان ہے اور کرنا مشکل ۔ لیکن مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد ہی انسان کندن بنتا ہے ۔ تبھی اسے زندگی کا اصل چہرہ نظر آتا ہے اور وہ لوگوں کو handle کرنے کے قابل ہوتا ہے ۔

اس قصے میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس لڑکی نے کبھی اس بلیک میلر سے وہ ویڈیو طلب نہیں کی ۔ وہ اتنی خوفزدہ تھی کہ اس کے ذہن میں یہ بات نہ آئی کہ وہ لڑکا جھوٹ بھی بول سکتا ہے ۔ وہ بس اپنے خوف کی وجہ سے اس کی ہمیشہ کے لیے غلام بن گئی ۔

اسے چاہیے تھا کہ اس سے وہ ویڈیو طلب کرتی ۔ اگر وہ نہ دے سکتا تو معلوم ہو جاتا کہ وہ جھوٹ بول کر اسے بلیک میل کر رہا ہے ۔ اگر وہ واقعی ویڈیو بنا چکا تھا تو اس لڑکی کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی ماں یا بہن کو اعتماد میں لیتی ۔ غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے ، اس کے والدین کچھ غصہ کرتے لیکن وہ یقیناً اس کا کچھ حل سوچتے ، کہ والدین کا حوصلہ و بصیرت عموماً اولاد سے زیادہ ہی ہوتی ہے ۔ پریشانی میں انسان کو کسی قابلِ اعتماد شخص سے رائے لے لینی چاہیے ۔

اگر آپ بھی کسی قسم کی بلیک میلنگ کا شکار ہیں تو ہمیں لکھیے ، شاید ہم آپ کو کوئی مشورہ دے سکیں ۔ یہاں آپ کا نام شائع نہیں کیا جائے گا ۔ ہمارا ای میل ایڈریس ہے
moashrah@gmail.com

Tuesday, January 13, 2009

How to Read in Nastaleeq

Click here to download Nastaleeq font.
Extract the Nastaleeq font from downloaded zip file. Copy this font file into the "C:\Windows\Fonts" folder. The Nastaleeq font will be installed. You can read our articles in Nastaleeq script after restarting your web browser.
You can use WinRAR to extract files from zip file.
Download WinRAR from www.rarlab.com

Monday, January 12, 2009

شخصیت پرستی ہے تباہی کی وجہ

جسے آپ اسلامی تاریخ کہتے ہیں، دراصل وہ مسلمانوں کی تاریخ ہے۔ یہ اسلامی تاریخ کیوں نہیں ہے، اس پر ہم گفتگو کرتے رہیں گے ۔ بہرحال اس تاریخ میں آپ کو جو عنصر فراوانی سے ملے گا ، وہ ہے جنگ ۔ مسلمانوں کی جنگوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ عربوں نے بہت جلد عجمیوں پر فتح حاصل کر لی ۔ اب آپ یہ کہیں گے کہ مسلمانوں میں عربی و عجمی کی تفریق کیوں کر رہے ہو ؟ دیکھیے جناب ، عربوں نے ہمیشہ اپنی نسل پر فخر کیا ہے اور یہ فخر آج بھی قائم ہے ۔ آج بھی آپ کو ایسے عربی ملیں گے جو غیر عربیوں کے بارے میں اچھے خیالات نہیں رکھتے ۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیے کہ کتنے عربی ، عجمی فساد ہوئے ہیں (مسلمانوں میں) ۔

بہرکیف ، عربوں کے مقابلے میں ایرانیوں اور رومیوں کی شکست کی ایک وجہ تھی ؛ شخصیت پرستی ۔ تاریخ کی کتابوں میں یوں لکھا ہوتا ہے کہ "۔۔اپنے سپہ سالار کو قتل ہوتے دیکھ کر ایرانیوں کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ بھاگ نکلے۔۔" یہ شے آپ کو عربوں میں نہیں ملے گی ۔ مسلمانوں کی جانب آئیے تو معلوم ہوگا کہ لڑائی کے دوران جب سپہ سالار شہید ہو گیا تو اس کی جگہ دوسرے نے سنبھال لی ، وہ شہید ہوا تو کسی اور نے کمان سنبھال لی ۔ مسلمان جنگجوؤں کو اپنے جرنیل کے قتل ہونے سے فرق نہیں پڑتا تھا ۔ جبکہ غیر مسلم لوگ اپنے جرنیل کے قتل کے بعد بالکل دل شکستہ ہو جاتے اور پسپائی اختیار کر لیتے ۔

یہ ہے شخصیت پرستی ؛ اسی نے آج ہمارا اور دنیا کا بیڑہ غرق کیا ہوا ہے ۔ لوگ اپنے لیڈروں کے طفیلیے بنے ہوئے ہیں ۔ جہاں لیڈر جائے گا ، یہ اس کے پیچھے پیچھے جائیں گے ، بھلے وہ انہیں کسی اندھے کنویں میں گرا دے یا انہیں ویرانے میں گم کر دے ۔ ہم لوگ اپنے لیڈروں ، فنکاروں ، مذہبی رہنماؤں اور بزرگوں کی پرستش کرتے ہیں ۔ ہم خود علم حاصل کرنے ، حالات کا تجزیہ کرنے اور اپنی سوچ کو وسیع کرنے کی بجائے اپنے رہنماؤں پر مکمل بھروسہ کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں خاندانوں کے خاندان کسی ایک سیاسی پارٹی کے وفادار ہوتے ہیں اور ہر صورتِ حال میں اس جماعت اور اس کے رہنماؤں کے اعمال کو justify کرتے ہیں ۔ ہمارا مذہبی لیڈر بڑی سے بڑی (معاف کیجیے گا)“چبل”بھی مار دے گا تو ہم اس پر لعنت بھیجنے کی بجائے اس کے جواز تلاش کریں گے اور یہ کہیں گے کہ اس کا درجہ اتنا بلند ہے کہ ہم اس کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں ۔ بندہِ خدا! انسان کا درجہ اس کے اعمال ، اقوال و خیالات سے بنتا ہے ، جب انچیزوں میں خرابی آئے تو اس کا رتبہ برقرار نہیں رہتا ۔

آج کل عمران خان نوجوانوں میں بہت مقبول ہے ۔ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ بندہ قابل ہے اور اسے موقع دیا جائے تو کام کر سکتا ہے ، یہ اندازہ اس کے شفاخانہ اور یونیورسٹی کو دیکھ کر لگایا ہے ۔ لیکن کیا اس کی جماعت میں “ون مین شو ” نہیں ہے ؟ اگر اس وقت خدانخواستہ عمران خان کو کچھ ہو جاتا ہے تو اس کی پارٹی کا کیا بنے گا ؟ کون جانتا ہے کہ اس کی جماعت کے فعال رہنما کون ہیں ؟ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے حلقہ میں اس کےامیدوار برائے اسمبلی کون ہیں ۔ اس کی جماعت کی تنظیم کیسی ہے اور آج کل اس کے ارادے کیا ہیں ؟ اس کے حلقہِ ارادت میں نوجوانوں کی طاقت ہےجو اس ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں ۔ لیکن وہ نوجوانوں سے ٹھیک طرح سے رابطے میں نہیں ہے ۔ وہ نوجوانوں کو اپنی جماعت میں شامل کرنے کی سعی نہیں کر رہا ۔ ہم نے تو کبھی اپنے شہر میں نہیں دیکھا کہ اس کی جماعت والوں نے کبھی کوئی جلسہ کیا ہو یا سیمینار منعقد کرایا ہو ۔

اگر کوئی شخص اپنی قوم کے ساتھ مخلص ہے تو اسے اپنے لوگوں کو مکمل اعتماد میں لینا چاہیے ۔ بالا بالا ملاقاتیں کرنے کی بجائے اپنے لوگوں سے کھلم کھلا بات کرنی چاہیے ۔ ہمیں کیا معلوم کہ نواز شریف ، آصف زرداری اور دیگر سیاسی رہنما کیا کرتے رہتے ہیں ؟ یہ لوگ غیر ملکی حکمرانوں ، سفیروں اور سیاسی لوگوں سے ہمارے مستقبل کے متعلق گفتگو کرنے کے بعد ایک چھوٹی سی پریس کانفرنس کرتے ہیں جس میں چند سوالات کے گول مول جواب دینے کے بعد صحافیوں کو چائے پانی پلا کر رخصت کر دیتے ہیں ۔ یہ اپنی گفتگو کیوں نشر نہیں کرتے ؟ ایسی کیا راز کی باتیں ہوتی ہیں کہ ہمیں نہیں بتائی جا سکتیں ؟ ہماری زندگیوں کے سودے بند کمروں میں کر دیے جاتے ہیں ۔ ہم پھر بھی انہی کی پوجا کرتے ہیں ۔

ہم سے پہلے کا زمانہ بہتر تھا کہ اس وقت انسان کا انسان سے تعلق بہتر تھا ۔ لوگ زیادہ سوشل تھے ، ملنا جلنا زیادہ تھا ، چوپالیں اور علمی مجلسیں منعقد ہوا کرتی تھیں ۔ جبکہ آج کا انسان مشینوں میں رہ کر مشین بن گیا ہے ۔ وہ مادہ پرستی میں ڈوب چکا ہے ۔ اب تو والدین سے بات کرنے کا بھی وقت نہیں ملتا ۔ بچہ تین سال کا ہوتا ہے تو کنڈر گارٹن میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ کم از کم سولہ سال وہ ایسی کتابوں اور استادوں کے چکر میں گم رہتا ہے جو اسے عالم نہیں ، کلرک اور کاٹھ کا اُلو بناتی ہیں ۔ ہمارے بزرگ قابلِ تعظیم ہیں کہ انہوں نے زندگی کو ہم سے زیادہ دیکھا ہے ۔ ان کے پاس وقت زیادہ تھا اور علم حاصل کرنے کے مواقع زیادہ ۔

تاہم ، ہم ان پر مکمل بھروسہ نہیں کر سکتے ، خاص طور پر مذہب کے معاملے میں ۔ قرآن کی درستگی اور صحت میں کسی کو شبہ نہیں ۔ مگر دیگر کتب جو آج ہمارے پاس ہیں ، ان کی صحت کی کیا ضمانت ہے ؟ احادیثِ رسول ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں ، لیکن کون نہیں جانتا کہ کتنی ہی حدیثیں لوگوں کو اشرفیاں دے کر بنوائی گئیں ؟ ہمیں کسی معاملے میں صاف نظر آتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے ، آپ حدیث لے آتے ہیں کہ نہیں اس کام کو تو یوں کرو ۔ امام ابو حنیفہ علیل ہیں اور وفات سے کچھ پہلے موزوں پر مسح کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ میں نے آج وہ کام کیا ہے جس سے ساری عمر دوسروں کو منع کرتا رہا ۔ ابو حنیفہ امام جعفر صادق کے شاگرد ہیں اور کئی لوگ انہیں شیعہ قرار دیتے ہیں ، جبکہ آج حنفی سنی کہلاتے ہیں ۔ امام شافعی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آخر میں شیعہ ہو گئے تھے لیکن چونکہ انہوں نے اپنا فقہ سنی ہونے کی حالت میں مرتب کیا تھا اس لیے وہ قابلِ عمل ہے ؛ یہ کیا مذاق ہے ۔ اس کنفیوژن کے بعد کوئی صاحبِ عقل کیا کرے گا ؟

اگرآپ سنی ہیں تو ہمیں غیر مقلد یا شیعہ قرار دیں گے ، غیر مقلد اور شیعہ ہمیں فتنہ کہیں گے ۔ مگر ہمیں مطمئن کوئی نہیں کر سکے گا کہ ہم مسلمان علماء کی پیروی کیونکر کریں جبکہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے ۔ آپ ہمیں آنکھیں بند کر کے ایمان لانے اور ائمہ کی پیروی کرنے کی نصیحت کرتے ہیں ، ادھر قرآن ہمیں کہتا ہے کہ تم سوچتے کیوں نہیں ؟ تدبر کیوں نہیں کرتے ؟ اللہ کی نشانیاں تمہارے سامنے کھلی موجود ہیں ، تم ان پر فکر کیوں نہیں کرتے ؟ آپ ہمیں کہتے ہیں کہ بزرگوں کے پیچھے چپ چاپ چلتے رہو ، کفارِ مکہ بھی یہی کہتے تھے کہ جن بتوں کو ہمارے آباء صدیوں سے پوجتے آ رہے ہیں ، ہم انہیں کیسے توڑ دیں ؟

آپ کو جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو آپ مولوی کے پاس کیوں بھاگے جاتے ہیں ؟ آپ نے کوئی فتویٰ لینا ہوتا ہے تو قرآن کھول کر کیوں نہیں دیکھتے ؟ آپ اخبار میں لکھے ہوئے کالموں اور سیاسی لیڈروں کے بیانات کو رٹا لگا کر اپنے مخالفین کو کیوں سناتے ہیں ؟ آپ خود غور کیوں نہیں کرتے کہ اس معاملے کا بہترین حل کیا ہے ؟ اس میں ظالم کون ہے اور مظلوم کون ؟ آپ کے شہر کا میئر ووٹ مانگتے ہوئے کہتا ہے کہ میں اس شہر کو پیرس بنا دوں گا ۔ ہم زور زور سے تالیاں پیٹ دیتے ہیں لیکن اس سے یہ نہیں پوچھتے کہ پیرس بنانے کے لیے پیسہ کہاں سے لاؤ گے ؟ پیسہ مل گیا تو نظام کیسے ٹھیک کرو گے ؟

Sunday, January 4, 2009

طوائف بھی انسان ہے

دنیا کے قدیم ترین پیشوں میں سے ایک ”جسم فروشی“ ہے۔ یہ اُن پیشوں میں سے ایک ہے جو بنی نوع انسان پر جبراً مسلط کیے گئے ہیں؛ یہ پیشہ انسان کی فطرت کے ظالمانہ پہلوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ ظلم کی وہ قسم ہے جس میں مشقِ ستم ہمیشہ مظلوم کو بنایا جاتا ہے اور اسے گناہ گار ٹھہرا کر سزا دی جاتی ہے۔ شروع سے لے کر آج تک ”طوائف“ کو قابلِ نفرت و ذِلت سمجھا جاتا رہا ہے، حالانکہ معاملہ برعکس ہونا چاہیے اگر انصاف سے کام لیا جائے تو۔

برصغیر کے مسلمانوں کے پسندیدہ حکمران ”اورنگزیب عالمگیر“ نے تخت نشینی کے بعد اعلان کیا کہ تمام طوائفیں جلد از جلد نکاح کر لیں ورنہ انہیں کشتی میں ڈال کر دریائے جمنا میں ڈبو دیا جائے گا۔ ”حضرت“ عالمگیر ان ”مسلمان“ فرمانرواؤں میں سے تھے جنہیں راسخ العقیدہ اور پابندِ شریعت کہلوانے کا شوق تھا اور اس مقصد کے لیے وہ ہر قسم کا فعل کرنے کو تیار تھے۔

جب اُستاذ کتاب رکھ کر ڈنڈا اٹھا لے تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ناکام ہو گیا، اور جب وہ معصوم بچے کو روئی کی طرح دھنک رہا ہو تو ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب اس شخص کا عقل کی سرحدوں سے بھی کوئی واسطہ نہیں رہا۔ انسان کی عمومی اور مسلمانوں کی خصوصی خامی یہ ہے کہ یہ ہر معاملے کو سطحی نظر سے دیکھتے ہیں۔ کمزور کو تختہِ دار پر چڑھا کر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ برصغیر کے استادوں کا عموماً یہ وطیرہ رہا ہے کہ یہ خِرد سے کام لینے کی بجائے دست و بازو استعمال کرتے ہیں۔ یہ طالب علم کی ناکامی کے اسباب معلوم نہیں کرسکتے، الٹا اسے مار پیٹ کے ذریعے تعلیم سے برگشتہ کر دیتے ہیں۔

آپ نے ”آ بیل مجھے مار“ کا محاورہ تو سنا ہی ہوگا، ذرا یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر بقائمی ہوش و حواس بیل کی ٹکریں کھانے جائے، تو قصور کس کا ہوگا، اس شخص کا یا بیل کا؟ ہماری عادت ہے کہ ہم اس شخص کو روکنے کی بجائے بیل کی گوشمالی شروع کر دیتے ہیں کہ اس نے ٹکر کیوں ماری۔ اس احمق کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتے جو ایک غلط کام کے لیے پیش ہوا۔

جو عالمگیر نے کیا، وہ ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے۔ گاہک کو روکنے، پکڑنے اور سزا دینے کی بجائے طوائف کو دھر لیا جاتا ہے۔ جو شخص ”اس بازار“ یا گھر میں داخل ہو رہا ہے، اسے تو کچھ نہیں کہا جاتا، طوائف کو گرفت میں لے لیا جاتا ہے۔

کبھی کوئی عورت بخوشی اپنا جسم فروخت کرنے پر راضی نہیں ہوتی۔ بلکہ کئی خواتین تو اپنے شوہروں کے ساتھ ہمبستری کے لیے بھی تیار نہیں ہوتیں۔ سائنسی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ خواتین کی جنسی خواہشات جلد کمزور اور ختم ہو جاتی ہیں۔ جس عورت کو اس کے جائز حقوق میسر ہوں، وہ کبھی جسم فروشی پر تیار نہیں ہوگی، جتنا بڑا لالچ مرضی دے کر دیکھ لیجیے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ طوائفوں کو پیسوں کا لالچ ہوتا ہے، ہاں ایسا ہوتا ہے مگر بہت کم۔ بہت کم ایسی ہوتی ہیں کہ اچھی خاصی دولت حاصل ہونے کے بعد بھی اسی گھناؤنے کاروبار میں ملوث رہتی ہیں۔ جس انسان کو آپ سالوں سال گند میں دبائے رکھیں، کیا اُس میں بدبو نہیں رچ جائے گی؟

اکثر عورتوں کو زبردستی جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے، بیشتر خواتین اغوا شدہ ہوتی ہیں۔ ان سے پیشہ کرانے والے انکار کی صورت میں ان پر تشدد کرتے ہیں اور بعض اوقات قتل بھی کر دیتے ہیں۔ کئی عورتوں کو دن میں بیسیوں خبیث بھگتانے پڑتے ہیں، اس صورتِ حال میں انہیں ”سُن“ کرنے والی ادویات استعمال کرائی جاتی ہیں تاکہ وہ اور ان کے اعضاء بے حِس ہو جائیں۔ اسقاطِ حمل کی ادویات بے دریغ کھانے اور جنسی تشدد سے بیشتر خواتین کی جسمانی حالت ابتر ہوتی ہے۔ جب تک یہ طوائفیں علاقے کے تھانیدار اور دیگر افسران کو خوش رکھیں، ان پر گرفت نہیں کی جاتی۔ بصورتِ دیگر پولیس ان کا جو حال کرتی ہے، وہ ناقابلِ بیان ہے۔

ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا ایک پُرسکون گھر ہو جس میں وہ عزت کے ساتھ زندگی بسر کر سکے۔ کبھی کوئی انسان اپنی بے توقیری پہ خوش نہیں ہوتا۔ اور عورت کو تو فخرِ انسانیت ”محمد مجتبٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم“ نے آبگینوں اور پھولوں سے مشابہت دی ہے، کہ یہ ان کی مانند نازک ہوتی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے؟ اس کا حل موجود ہے، بشرطیکہ اس پر عمل درآمد کیا جائے۔

ضرورت اس اَمر کی ہے کہ جسم فروش عورتوں کو صحیح معنوں میں تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہیں ہنر سکھائے اور مناسب روزگار دیے جائیں۔ انہیں نکاح کرنے اور عزت سے زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کے گاہکوں اور ان سے زبردستی پیشہ کرانے والوں کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔

لٹریچر کو ”ریگولیٹ“ کیا جائے۔ آپ ذرا اردو شاعری و نثر کو اٹھا کر دیکھ لیجیے، کوئی مقام طوائف سے خالی نہیں ہے۔ ہمارے عظیم شعراء اور مصنفین نے اس انداز میں کوچہِ ملامت کے ”فضائل“ بیان کیے ہیں کہ بندہ نہ جاتا ہوا بھی جائے۔ انگریزی لٹریچر میں ہمہ قسم خرافات موجود ہیں، مگر اردو کتب اس لحاظ سے ممتاز ہیں کہ یہ قاری کو ترسا ترسا کر مارتی ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ مکمل برہنگی کی نسبت نیم برہنہ مناظر زیادہ شہوت انگیز ہوتے ہیں، یہی اردو ادب کی ”خوبی“ ہے۔ ہمارے شعراء اور ادیبوں نے جس دھڑلے سے اپنے کرتوتوں کا اقرار اپنے کلام اور شہوانح حیات میں کیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں مجرم کو کتنی آزادی حاصل ہے۔

Saturday, January 3, 2009

آدابِ گفتگو

ہم بنیادی طور پر ایک کم گو انسان ہیں؛ شاید یہی وجہ ہے کہ طبیعت لکھنے کی جانب مائل ہوئی۔ یہ بات نہیں ہے کہ ہمیں بولنا نہیں آتا یا ہم الفاظ کا چناؤ نہیں کر سکتے۔ دراصل اچھے سامعین کی کمی ہے۔ اکثر لوگوں کو دوسرے کی بات کاٹنے اور توجہ نہ دینے کی عادت ہوتی ہے اور ہمیں یہ عادت بالکل پسند نہیں ہے۔ کئی لوگ بحث و مباحث کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، کئی لوگ مخاطب کو چُغد سمجھتے ہیں، کئی لوگ اپنے نظریات و خیالات کو دوسروں پر ٹھونسنا چاہتے ہیں ۔ ہم ایسے لوگوں کی “سُن” تو لیتے ہیں مگر ان کے سامنے اظہارِ رائے کرنے سے کتراتے ہیں۔ نتیجہ نکلتا ہے “کم گوئی”۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اچھا سامع (سننے والا) ہونا بھی ایک نعمت ہے؛ یہ نعمت کم کم لوگوں کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ اچھا سامع ہونے کے بہت سے فائدے ہیں۔ اگر آپ کسی عالم کی گفتگو سُنتے ہیں تو آپ معلومات اور علم حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ کسی کم عِلم شخص کی باتیں سنتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ کم پڑھے لکھے افراد کی سوچ کیسی ہوتی ہے۔ اگر آپ اُمراء کو سنتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دولت کیسے بولتی ہے۔ اگر آپ کسی غریب کی سنتے ہیں تو جان لیتے ہیں کہ کم آمدنی والے شخص کے کیا مسائل ہوتے ہیں اور اس کی سوچ کِن مظاہر کے گِرد گھومتی ہے۔ ان معلومات سے انسان اور انسانی رویوں کو جاننے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو عین ممکن ہے کہ آپ کو یہ باتیں فضول لگ رہی ہوں اور آپ ان سے اکتا چکے ہوں۔ اگر آپ نے ہماری تحریر “ابتدائیہ” پڑھی ہے تو آپ جانتے ہوں گے کہ ہم اپنے آپ اور اپنے اردگرد موجود انسانوں کو درست کرنا چاہتے ہیں، ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ جب آپ نے کسی نظام کو درست کرنا ہو تو پہلے اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہم اس نظام کو درست کرنا چاہتے ہیں اس لیے پہلے اس کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ انسانی فطرت اور انسانی رویے اس تجزیہ کے اہم نکات ہیں۔ جب تک آپ کسی معاملے کے اسباب و طریقہِ واردات کو نہیں جانیں گے، تب تک اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔

یقیناً ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے پہچانا جائے، وہ اپنے خیالات دوسروں تک پہنچائے، لوگ اسے سمجھیں اور اسے توجہ دیں۔ لیکن بولنے والے کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ کیا بول رہا ہے، کس کے سامنے بول رہا ہے، کس موقع پر بول رہا ہے اور سامعین اس کی گفتگو میں کس حد تک دلچسپی لے سکتے ہیں۔ جب آپ کسی سے گفتگو کر رہے ہوں تو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ۔ ۔ ۔
اس کے پاس کتنا علم ہے
اس کی عمر کتنی ہے
اس کے دلچسپی کے موضوعات کیا ہیں
وہ گفتگو میں کتنی دلچسپی لیتا ہے
کیا وہ دلائل سے سمجھتا ہے یا مثالوں اور قصے کہانیوں سے

اوپر جو باتیں بیان کی گئی ہیں، ابتدا میں ہمیں ان کا علم نہیں تھا۔ بدقسمتی سے ہم اپنے والدین سے زیادہ بے تکلف نہیں تھے اس لیے ان سے اس طرح کی باتیں نہ سیکھ پائے۔ منطق و استدلال کی کتابیں ہم نے پڑھی نہیں اس لیے بھی ان باتوں کا علم نہیں ہوا۔ جب ہم شعور کی منزلیں طے کرنے لگے اور عملی زندگی میں انسانوں سے پالا پڑا تو انسانی رویوں کے اَن گِنت پہلو ہمارے سامنے آتے گئے۔ بحث و مباحث اور مختلف افراد سے گفتگو سے ہم نے جو نتائج اخذ کیے وہ اوپر بیان کیے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ یہ حرفِ آخر نہیں۔ آپ اس بارے میں اپنی رائے دیجیے۔ اگر ہم کہیں غلط ہیں تو درستگی فرمائیے اور اگر ہم کچھ بھول گئے ہیں تو بتائیے۔

Friday, January 2, 2009

ابتدائیہ

انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے۔ انسان دوسری مخلوقات سے ممتاز کیوں ہے؟ اس لیے کہ خدا نے اسے تخیّل (Thinking Power) اور آزادی عطا فرمائی ہے۔ مکمل آزادی ، اتنی آزادی کہ انسان کی تقدیر بھی اس کے حوالے کر دی۔ اسے ایک بہت بڑی تجربہ گاہ (یہ کائنات) فراہم کر دی کہ وہ یہاں اپنے تخیّل کو بھرپور آزادی کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے جو کرنا چاہے ، کرے۔

انسان کو معاشرتی حیوان کہا جاتا ہے۔ انسان اکیلا نہیں رہ سکتا، مِل جُل کر رہنا اس کی فطرت میں شامل ہے۔ کئی انسان مِل کر ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ جب انسان صرف اپنے مفادات کو تحفظ دیتا ہے تو ایک بُرا معاشرہ تشکیل پاتا ہے، جب وہ اجتماعیت کو اہمیت دیتا ہے اور دوسرے انسانوں کی بھلائی کے لیے کام کرتا ہے تو ایک اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

اِسے ہماری خوش قِسمَتی کہیے یا بدقِسمَتی ، کہ ہم ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے جو “اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں رہائش پذیر ہے۔ بچپن انسان کی زندگی کا سُنہرا دور ہوتا ہے، چاہے اس کے گھر کے حالات کتنے ہی بُرے کیوں نہ ہوں ، اسے زندگی کی تلخیوں کا اِدراک نہیں ہوتا۔ ہر اِنسان اپنے بچپن سے بھرپور انداز میں لُطف اندوز ہوتا ہے۔ ہم ایک متوسّط گھرانے میں پیدا ہوئے، پیدائش کے وقت سونے کا چمچ تو ہمارے منہ میں نہ تھا مگر ہم نے اپنے بچپن اور لڑکپن کے مزے خوب لُوٹے ۔ مگر جوں جوں ہم بڑے ہوتے گئے، زندگی کے تلخ حقائق ہمارے سامنے آتے گئے۔ بالآخر ہم پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جو بہت تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہے۔ یہ معاشرہ ہر طرح کی بُرائی سے آلودہ ہے، اخلاقیات کے بارے میں یہ مصرع نہایت موزوں رہے گا کہ “اب ڈھونڈ انہیں چراغِ رُخِ زیبا لے کر”۔ ایسی کون سی برائی ہے جو اِس پاکستانی “اِسلامی” معاشرے میں نہیں ہو رہی۔ ظلم، جبر، غربت، نااِنصافی ، ہر ہتھیار سے انسانیت کی تذلیل کی جارہی ہے۔

ہم نے کُتب بینی کی، علماء سے سوال کیے، احباب سے مباحث کیے کہ آخر ہم بدترین قوموں کی صَف میں کیوں کھڑے ہیں؟ ہمارے پاس تو دُنیا کا بہترین مذہب “اسلام” موجود ہے جس میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے، پھر ہم اہلِ مغرب سے ہر معاملے میں پیچھے کیوں ہیں؟ ہم کیوں بُرائی کی دلدل میں روز بروز دھنستے جا رہے ہیں؟ مطالعہ، بحث اور بہت سوچنے کے بعد ہمیں جب اِن باتوں کا جواب مِلا تو یقین جانیے کہ ہماری بنیادیں ہِل گئیں اور چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہماری بربادی کا سبب ہے ہمارا مذہب۔

یہ وہ اِسلام نہیں ہے جو اللہ (خُدا) نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو دیا۔ یہ وہ اسلام نہیں ہے جو خاتم الانبیاء “محمد بن عبداللہ المصطفٰی” لائے تھے۔ یہ وہ مذہب نہیں ہے جو ہمیں صِراط المستقیم پر چلائے اور ہمیں صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات بنائے۔ یہ اسلام کا بُری طرح مسخ شدہ (destroyed) ورژن (version) ہے۔ یہ “مُلاں اِزم” ہے جو بطورِ خاص ظالموں، جابروں اور مفادپرستوں کو تحفظ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ہم نے یہ بلاگ اس لیے بنایا ہے کہ اچھے انسان اور اچھا معاشرہ تشکیل دیا جائے اور حضرت محمد صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اصل پیغام کو پھیلایا جائے۔ واللہ ہماری نیت بالکل ٹھیک ہے اور ہم کسی فتنہ، فساد، شرانگیزی یا سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہے۔ نہ ہی ہمیں کسی این جی او، حکومت یا بیرونی امداد کا ساتھ حاصل ہے اور نہ ہی ہم اس کے خواہش مند ہیں۔

ہم اردو بلاگروں کے شُکرگُزار ہیں کہ ان کی تکنیکی مدد کی بدولت ہم نے یہ بلاگ ترتیب دیا اور اپنے کمپیوٹر پر اردو لکھنے پڑھنے کے قابل ہوئے۔ لیکن شاید وہ ہماری اس ویب سائیٹ سے خوش نہ ہوں کہ ہمارے خیالات ان کے نظریات کی نفی کرتے ہیں۔ ہماری نیت نیک ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت کی نیت نیک ہے، مسئلہ ان کے غلط نظریات کا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم بالکل حق بجانب ہیں، ہم میں بھی کئی خامیاں ہوں گی، لیکن ہمارے فلسفہ کی بنیاد ٹھیک ہے جسے سامنے رکھ کر ہم مختلف عوامل کے بارے میں سوچتے ہیں۔

آپ کو ہماری تحریروں پر رائے دینے کی آزادی ہے، اگرچہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس بلاگ پر بہت کم تبصرے ہوں گے کیونکہ مسلمان اکثر ان لوگوں سے دور رہتے ہیں جو ان کے نظریات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ ہم تبصرہ کرنے والے افراد سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہماری تحریروں پر شائستہ انداز میں تنقید کریں اور اگر ہمیں گالیاں دینے کی ضرورت پیش آئے تو غائبانہ دے دیجیے، ہم ناشائستہ تبصرے شائع نہیں کرتے۔

Thursday, January 1, 2009

Welcome to Our Society

This is a journal of our movement, the movement for the restoration of humanity. We want to build the best society, whatever our religion, language, race or locale may be. We want to protect the rights of human beings, animals, plants and all the life-less objects which are the parts of our life.

If you agree with us, come and join us! If you disagree, consider our sayings. You too can write here, just drop an email at following address to publish.
moashrah@gmail.com

Moashrah [MUAASHIRAH (MOO AA SHE RAH)] is an Urdu word, it means Society.

یہ سائیٹ ایک تحریک کی ترجمان ہے؛ انسانیت کی بحالی کی تحریک۔ ایک ایسی تحریک جس کا مقصد مذہبی، لسانی، نسلی و علاقائی اختلافات کو ختم کر کے ایک بہترین معاشرہ تشکیل دینا ہے ۔ہم صرف انسانوں کا ہی نہیں ، جانوروں ، بے جان اشیا اور پودوں کا بھی تحفظ چاہتے ہیں ۔

اگر آپ کو ہمارے نظریات سے اتفاق ہے تو آپ ہمارا ساتھ دیجیے ۔ اگر آپ کو ہماری سوچ سے اختلاف ہے تو آپ ہماری باتوں پر غور کیجیے۔ آپ بھی یہاں لکھ سکتے ہیں ،درج ذیل ای میل ایڈریس پر ای میل کیجیے ۔
moashrah@gmail.com